آر[2]

قسم کلام: اسم ظرف مکاں

معنی

١ - اس طرف، اِدھر، (عموماً پار کے ساتھ مستعمل)۔  یہ تو دریا ہے جادو کا اسرار تم گئے آئے کیونکر آر اور پار      ( ١٧٨٥ء، حسرت (جعفر علی)،طوطی نامہ، ١١٠ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کا اصل لفظ 'آوار' ہے جوکہ اسم ظرف مکاں کے معنی میں مستعمل ہے۔ اس کا اردو مستعمل 'آر' ہے اردو میں سب سے پہلے ١٥١٥ء، میں کبیر کے ہاں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: آوار
جنس: مؤنث